سدا زیست پر میری جو ڈھائے قہر رکھتا تھا
دلِ مُنکر اُسی ظالم پر محبتوں کی مہر رکھتا تھا
مُیسر خود کو نہیں رہا کبھی اپنی بھی محفل میں
یوں تو اہلِ احباب میں سارا ہی شہر رکھتا تھا
ہواوں سا مزاج ہوا ہے اب اُس نگہباں کا بھی
روشن میرے نام کا جو دِیا شامُ پہر رکھتا تھا
کل شب کہیں اندھیروں میں کھو گیا وہ شخص
اُمید کبھی جو بہت طلوعِ سحر رکھتا تھا
چلو اچھا ہی یے زندہ درگو ہوا مجرمِ عشق
دیوانہ یوں بھی زمانے سے اَہرتہر رکھتا تھا
اپنی ہی ذات میں لمحہ لمحہ کہیں مرا یے عُمر
تخلیقِ خاک مہں میری خدا ایسا زہر رکھتا تھا
محمد ندیم عُمر
No comments:
Post a Comment
Thank You